اربعین کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تبلیغی منبر کیوں کہا جاتا ہے؟

حوزہ /  اربعین واک کی ممتاز خصوصیت صرف اس میں شریک ہونے والے افراد کی کثرت تک محدود نہیں بلکہ اس کی عالمگیریت، انسانی تنوع، ہمہ گیر پیغام اور عالم اسلام بلکہ اس سے بھی آگے مستقبل کے لیے اس کی تحریک بخش صلاحیت میں بھی نمایاں ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اربعین واک دینی اور ثقافتی مبصرین کی نظر میں صرف ایک عظیم مذہبی اجتماع نہیں بلکہ عالم اسلام کی مختلف اقوام، مذاہب اور فکری و سماجی تحریکوں کے درمیان رابطے کا ایک بے مثال ذریعہ ہے۔ یہی صلاحیت اسے دیگر بہت سے اجتماعات سے ممتاز کرتی ہے۔

سوال:

اربعین واک میں بین الاقوامی سطح پر کون سی صلاحیتیں موجود ہیں؟ اسی طرح اس عالمی تحریک کی دیگر اجتماعات کے مقابلے میں امتیازی خصوصیات کیا ہیں؟

جواب:

اربعین؛ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تبلیغی منبر ہے، جس کے مخاطب ایک مخصوص مدت میں ایک محدود جغرافیائی خطے میں جمع ہونے والا انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور متنوع اجتماع ہے۔ اگرچہ بدھ مت کے پیروکاروں نے ہندوستان میں اسی نوعیت کی ایک تحریک میں ایک کروڑ سے دو کروڑ افراد کو جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن وہ اجتماع کبھی بھی اربعین کی طرح متنوع اور عالمگیر نہیں رہا بلکہ ایک مذہبی مسلک تک محدود تحریک رہی ہے، جس میں شاید خود ہندوستان کے دیگر مذاہب کے پیروکار بھی شریک نہ ہوتے ہوں۔

لیکن اربعین نے نہ صرف مذہبی اور مسلکی سرحدوں بلکہ سیاسی اور سماجی پابندیوں کو بھی اپنے اندر ختم کر دیا ہے۔ ہر شخص اپنی پسند اور رجحان کے ساتھ اس میں شریک ہوتا ہے۔ ہم توقع رکھتے تھے کہ حج کے عظیم اجتماع کے بارے میں بھی ایسا ہی ہوگا لیکن بدقسمتی سے موجود رکاوٹوں کے باعث ایسا کبھی نہیں ہو سکا۔

بہرحال، امام حسین علیہ السلام انسان کے لیے ایک عالمی طرزِ زندگی پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔ امام حسین علیہ السلام کا عظیم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی تحریک کے مختلف پہلوؤں میں توحید کی جامعیت کو عملی شکل دی اور ایک ایسا مکمل اور ہمہ گیر طرزِ زندگی متعارف کرایا جسے آج کے اس نئے دور میں ایک اقداری و عملی نظام، ایک نجات بخش مجموعے اور کسی حد تک عالمی سطح پر ’’آزادی بخش الٰہیات‘‘ کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

ایسی فکر جسے دنیا کے ہر خطے اور ہر رنگ و نسل کے انسانوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے تاکہ انسانیت کو اس کی عقل کی محدودیت، خواہشاتِ نفس اور جہالت سے نجات دلائی جا سکے اور دنیا کے انسانوں کو ظالم حکمرانوں سے آزادی دلائی جا سکے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اربعین کی تحریک کو ایک عالمی اور انسانی قیادت کی ضرورت ہے تاکہ اسے مختلف گروہوں کی پابندیوں سے آزاد کیا جا سکے اور عالم اسلام کے مذاہب کو ازسرِنو تشکیل اور فروغ دیا جا سکے۔

دنیا کے مختلف خطوں سے کربلا آنے والے لاکھوں زائرین کا یہ عظیم اجتماع اسلام اور غیر اسلام کی ایک ایسی عالمی تصویر بن سکتا ہے جو ہمیں اسلام اور دنیا کی حقیقی صورتِ حال دکھائے۔ یہ ہمارے لیے ایک عظیم سرچشمۂ الہام بن سکتا ہے، جس کی مدد سے عالم اسلام کے لیے لائحۂ عمل مرتب کیا جائے اور اس کے عمومی منصوبوں اور ترجیحات کا تعین کیا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha